Home › Groups › Urdu Post - اردو پوسٹ
Urdu Post - اردو پوسٹ Telegram
Telegram Channel Link

Urdu Post - اردو پوسٹ Telegram Channel Link

★★★★★ 0.0 (0 ratings)
👁 3 views ↗ 0 joins
🇦🇪 United_Arab_Emirates 🌐 Arabic # Spiritual & Devotional
About this telegram channel link
اردو شاعری، اقوال، دینی وادبی پوسٹ Shayari, Poetry , Motivation, Quotes ! متحد رہیں مضبوط رہیں
Telegram Channel

Latest public posts from this Telegram channel.

468 subscribers
10 Oct 2026 latest post
Click to fetch the latest posts directly from Telegram.
بچوں کو ڈرا کر نہیں، سمجھا کر تربیت دیجیے!کبھی غور کیا ہے کہ بچے کو اپنی بات منوانے کے لیے دی جانے والی ایک چھوٹی سی دھمکی اس کے معصوم ذہن میں کتنے بڑے خوف پیدا کر سکتی ہے؟ہم بچوں کو سدھارنے کے لیے جانے انجانے میں ایسے الفاظ کہہ جاتے ہیں جو ان کے دل میں خوف بٹھا دیتے ہیں، حالانکہ تربیت کا مقصد بچے کو ڈرانا نہیں بلکہ اسے صحیح اور غلط کی پہچان کروانا ہے۔بچے کو آپ کی دھمکی نہیں، آپ کی رہنمائی چاہیے۔ اسے خوف نہیں، اعتماد دیجیے۔آپ بچوں کی تربیت میں کن باتوں کا خاص خیال رکھتے ہیں؟
°•~ عورت (صنفِ نازک بھی، صنفِ آہن بھی)~•° ✍️نور افشاں جونپوری اسلامی تاریخ پر نظر ڈالیں تو ہمیں جگہ جگہ ایسی عظیم خواتین ملتی ہیں جنہوں نے اپنی ثابت قدمی، ہمت اور کردار سے دنیا کو حیران کر دیا۔ عورت اگر نرمی کی علامت ہے تو وقت پڑنے پر وہ مضبوطی اور عزم کی مثال بھی بن سکتی ہے۔ وہ کبھی گلاب کی خوشبو جیسی نرم محسوس ہوتی ہے اور کبھی ظلم کے سامنے مضبوط درخت کی طرح کھڑی ہو جاتی ہے۔ اسلام کی راہ میں سب سے پہلی شہادت ایک عورت نے دی حضرت سمیہؓ۔ ان کی استقامت نے ہمیشہ کے لیے یہ بات طے کر دی کہ ایمان کی حفاظت مردوں کی طرح عورت بھی کرسکتی ہے۔ حضرت خدیجہؓ نے اسلام کی بنیادوں کو سہارا دیا، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کھڑی رہیں، کاروبار سنبھالا، اور اسلام کی پہلی محافظ بنیں۔ حضرت فاطمہؓ نے گھر کو اخلاق و حیا کا نمونہ بنایا اور اپنے صبر و وقار سے پوری امت کو سکھایا کہ عورت طاقت کا وہ رخ بھی رکھتی ہے جو جھکنے کا نام نہیں لیتا۔ حضرت خولہ بنت الازورؓ میدانِ جہاد میں گھوڑے پر سوار ہوکر دشمن کی صفیں چیرتی تھیں۔ حضرت نسیبہ بنت کعبؓ نے جنگِ احد میں تلوار اور تیر سنبھالے اور رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کی۔ حضرت عائشہؓ نے علم کے دروازے کھولے، ہزاروں مسائل ان کی وجہ سے امت تک پہنچے۔ یہ وہ خواتین ہیں جنہوں نے نہ صرف اپنے خاندانوں بلکہ پوری امت کے لیے مثال قائم کی۔ آج کی مسلمان عورت بھی انہی نقشِ قدم پر چلتے ہوئے ہر شعبے میں آگے بڑھ رہی ہے۔ وہ حجاب اوڑھ کر کلاس روم میں بیٹھتی ہے، عدالت میں انصاف کی بات کرتی ہے، اسپتال میں مریضوں کی خدمت کرتی ہے اور ضرورت پڑنے پر آسمانوں میں اڑنے والے جہاز کی کپتانی بھی کرتی ہے۔ پردہ اس کی رکاوٹ نہیں اس کی پہچان ہے۔ عورت نرمی بھی رکھتی ہے اور جرأت بھی وہ چاہے تو اپنی حفاظت کے لیے اٹھنے والے ہر ناپاک ہاتھ کو روک سکتی ہے اور غلط نظر کو جھکانا جانتی ہے۔ اللہ نے اسے جذبات، عقل، برداشت اور ہمت چاروں نعمتوں کا ایک حسین ملاپ بنا کر دنیا میں بھیجا ہے۔ عورت کی گود پہلا درسگاہ ہے وہ نئی نسل کو اخلاق، شعور اور مقصدِ حیات سکھاتی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اسے بے مقصد نہیں پیدا کیا گیا۔ اس کی ذمہ داریاں اہم ہیں اس کا کردار مضبوط ہے اور اس کا مقام کسی طور مرد سے کم نہیں۔ ہمارے ماضی میں ایسی بے شمار خواتین گزری ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے اسلام اور قوم کا نام بلند رکھا، اور ان شاء اللہ مستقبل بھی ایسی ہی بہادر اور باوقار خواتین سے سنورتا رہے گا۔ ماضی کی یہ عظیم عورتیں ہمیں بتاتی ہیں کہ عورت کمزور نہیں بلکہ مضبوط پیدا کی گئی ہے۔ اسی حقیقت کو سمجھنے کی ایک داستان مریم کی بھی ہے ~° *عزت کی وارث*° ~مریم ابھی صرف انیس سال کی تھی، مگر زندگی کے کئی سوال اس کے دل میں گھر کیے ہوئے تھے۔ وہ اچھی طالبہ تھی، اپنے گھر کا لحاظ رکھنے والی، حیا دار لڑکی۔ مگر کبھی کبھی اسے لگتا تھا کہ آج کے زمانے میں لڑکی ہونا بہت مشکل ہے۔ ایک دن وہ خاموش بیٹھی تھی کہ نانی نے اس کے چہرے پر چھائی بےچینی محسوس کی۔ نانی نے پوچھا، بیٹی، کیا پریشانی ہے؟ مریم نے دھیمی آواز میں کہا،نانی دنیا بدل گئی ہے۔ لگتا ہے کہ لڑکیوں کی عزت محفوظ نہیں۔ ہم کمزور ہیں۔ ہم کچھ بدل نہیں سکتے۔نانی نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور بولیں بیٹی، کمزور وہ نہیں ہوتا جس کا جسم نازک ہو کمزور وہ ہے جس کا دل ہار جائے۔ آؤ، میں تمہیں چند عورتوں کی کہانی سناتی ہوں تاکہ تم خود کو پہچان سکو۔ اسلام کی پہلی شہید ایک عورت تھی حضرت سمیہؓ۔ انہیں مارا گیا ستایا گیا مگر انہوں نے اللہ کے دین سے پیچھے قدم نہ ہٹایا۔ بیٹی! یہ تھی عورت کی اصل طاقت ایمان کی طاقت۔ اور ایک عورت تھی حضرت خدیجہؓ دولت بھی ان کے پاس تھی، مقام بھی۔ مگر جب وقت آیا، تو سب کچھ اللہ کے رسول ﷺ پر نچھاور کر دیا۔ ایک عورت اگر وقار اور سمجھ کے ساتھ قدم رکھے تو وہ دین کی بنیاد بن جاتی ہے۔ حضرت عائشہؓ کا علم آج تک امت کے پاس امانت ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ عورت اگر سیکھ لے تو صدیوں تک رہنمائی بن سکتی ہے۔ خالہ خولہ بنت الازورؓ نازک سی عورت، مگر جنگ میں گھوڑے پر سوار ہو کر دشمنوں کو شکست دیتی تھیں۔ یہ ہے عورت کی اصل ضرورت پڑے تو نازک ہاتھ بھی فولاد بن جاتے ہیں۔ اور حضرت فاطمہؓ جب دیکھا کہ دشمن رسول اللہ ﷺ کو ستا رہے ہیں تو وہ آگے بڑھیں نازک سا جسم مگر دل فولاد کا۔ بیٹی یہی اصل طاقت ہے! مریم خاموشی سے سنتی گئی۔ شاید پہلی بار اسے احساس ہوا کہ عورت کی مضبوطی جسم سے نہیں ایمان سے ہوتی ہے۔ چند دن بعد مریم کے کالج میں ایک لڑکے نے اس کی ایک تصویر گروپ میں ڈالنے کی کوشش کی۔ مریم کے ہاتھ کانپنے لگے اسے لگا جیسے اس کی عزت، اس کی محنت، اس کی حیا سب خطرے میں آگئے ہوں وہ روتی ہوئی نانی کے پاس بھاگ آئی نانی، میں نے کیا غلط کیا؟ میں تو ہمیشہ پردے میں رہتی ہوں پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ نانی نے اسے گلے لگایا۔ بیٹی، آزمائشیں کمزوروں کے پاس نہیں آتیں اللہ کبھی کبھی اپنے بندوں کو مضبوط کرنے
کے لیے مشکل بھیجتا ہے۔ اب یہ تم پر ہے کہ تم ٹوٹ جاؤ یا کھڑی ہو جاؤ مریم کانپتی آواز میں بولی، میں کھڑی کیسے ہوں نانی؟ مجھے ڈر لگتا ہے نانی نے پیار سے کہا، بیٹی! تم ان عورتوں کی وارث ہو جنہوں نے ظلم کے سامنے سر جھکنے نہیں دیا۔ خود کو کمزور سمجھنا چھوڑ دو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اگلے دن مریم نے ہمت جمع کی وہ پرنسپل کے دفتر گئی، پورا واقعہ بتایا،اور ثبوت بھی دیا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی، مگر دل مضبوط تھا کالج نے سخت ایکشن لیا۔ لڑکے نے معافی مانگی، اور سزا بھی ملی۔ گھر آکر مریم نے نانی کے ہاتھ تھامے اور کہا، نانی، آج پہلی بار مجھے لگا کہ میں کمزور نہیں ہوں بلکہ اللّٰہ نے مجھے بھی مضبوط پیدا کیا ہے۔ نانی نے مسکرا کر کہا، بیٹی یہی تو میں کہتی ہوں۔ جو عورت اپنی عزت کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے اللہ اس کے قدم مضبوط کر دیتا ہے۔ یہی اصل صنفِ آہن ہے عورت نازک ضرور ہے مگر دل میں حیا، نیت میں سچائی اور قدموں میں ثابت قدمی ہو تو دنیا کی کوئی طاقت اسے جھکا نہیں سکتی۔ جو لڑکی اللہ پر بھروسہ کر کے اپنے حق، اپنی عزت، اپنی غیرت کی حفاظت کرتی ہے وہی اصل مضبوط مسلمان عورت ہے وہی عزت کی وارث ہے۔
اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی.
اور جس کا اراده آخرت کا ہو اور جیسی کوشش اس کے لئے ہونی چاہیئے، وه کرتا بھی ہو اور وه باایمان بھی ہو، پس یہی لوگ ہیں جن کی کوشش کی اللہ کے ہاں پوری قدردانی کی جائے گی.کتنی ہی ایسی کاوشیں ہوتی ہیں جن کی کوئی تعریف نہیں کرتا اور جنہیں لوگ کامیابی نہیں سمجھتے لیکن اللّٰہ کے ہاں وہ درج ہوتی ہیں۔تھکاوٹ جو ہر روز ہوتی ہے۔ایک گھر صاف ہو جاتا ہے، پھر پہلی حالت میں واپس آتا ہے. دوبارہ صاف کرنا پڑتا ہے. کھانا پکانا، کپڑے دھونا، گھر کے افراد کی ضروریات کا خیال رکھنا... وغیرہاور قرآن! ان تمام مصروفیات کے درمیان دل جس(قرآن) کے لیے جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، یہ احساس پیدا ہو سکتا ہے کہ ہم نے کچھ بھی نہیں کیا. کیونکہ ان محنتوں کی ظاہری شکل یا قابل پیمائش نشان ہی موجود نہیں ہوتا. لیکن اللہ، شاکر علیمٌ، تمام کوششوں سے واقف ہے. وہ اس نیت کو جانتا ہے جو عمل سے پہلے تھی، جسکے ساتھ تھکاوٹ بھی تھی اور صبر بھی،جس وقت تم نے اپنی خواہشات کے خلاف مزاحمت کی تھی، وہ عبادت جو تم نے تھک کر ادا کی تھی، اور وہ نیکی جو تم نے کی لیکن جسے سب بھول گئے!! یہ اللہ عزوجل کی رحمت ہی ہے کہ اسکی طرف لوٹنے والے راستے، ذمہ داریوں سے بھرپور ہیں. آپ کے معمولاتِ زندگی توشہ آخرت سے بھر سکتے ہیں جب آپ کی نیت و ارادے اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہو جائیں. پھر ہر صبح کھانا پکانا احسان بن جائے گا، اولاد کی تربیت ایک امانت،اپنے خاندان کی خدمت عبادت،صبر قرب الہی پانے کا ذریعہ ،اور تلاوتِ قرآن کے وہ چند لمحات جو مصروفیات کے درمیان آپ نکالتی ہیں، اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ اخلاص کا ذریعہ بن جائیں گے. اپنے اور اپنے ربّ کے درمیان کسی مخفی جدو جہد کو کم تر نہ سمجھیں۔اخلاص نیت کے ساتھ کیا گیا ایک چھوٹا سا عمل رب تعالیٰ کے ھاں کئی نیکیوں سے وزنی ہو سکتا ہے. اللهم بارك لنا في سعينا، واخلص لك نياتنا، واجعل تفاصيل ايامنا عامرة بطاعتك، وتقبل منا ما خفي وما ظهر، ولا تضيع لنا تعبا بذلناه ابتغاء وجهك وارزقنا في زحام الدنيا قلبا لا يغفل عن الاخرة، واجعل سعينا مشكورا وعملنا مقبولا وخاتمتنا رضاك والجنة آمين يا حي يا قيوم
وہ عورت جو جینا سکھائے_زندگی کے سفر میں ایسی عورت کی قربت بڑی نعمت ہے جو صرف ساتھ چلنا نہیں، بلکہ زندگی کو سمجھنا بھی جانتی ہو۔ وہ عورت جو باتوں میں زندگی کی حرارت رکھتی ہو، دکھ کے لمحوں میں حوصلہ بن جائے اور خوشی کے دنوں کو مزید حسین کر دے۔_ایسی عورت جو آپ کی خاموشیوں کو بھی پڑھ لے، آپ کی تھکن کو محسوس کر لے اور رات بھر کی بے قراری کو اپنے ایک لمسِ محبت سے سمیٹ لے۔ جو آپ کو اپنی بانہوں میں یوں تھامے کہ دنیا کی ساری پریشانیاں چند لمحوں کے لیے بے معنی محسوس ہونے لگیں۔وہ آپ کے خوابوں کو محض خواب نہ سمجھے، بلکہ ان کی تعبیر کے سفر میں آپ کا حوصلہ بنے۔ آپ سے یہ نہ کہے کہ ’’جو سمجھنا ہے، سمجھ لو‘‘ بلکہ محبت سے آپ کا ہاتھ تھام کر کہے: ’’آئیے، میں سمجھاتی ہوں نا!‘‘ایسی عورت صرف شریکِ حیات نہیں ہوتی، وہ انسان کے لیے سکون، حوصلہ اور محبت کا خوب صورت امتزاج بن جاتی ہے۔ جس کی موجودگی میں دل کو اطمینان، زندگی کو مقصد اور مشکل وقت میں آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہر انسان کو ایسی عورت نصیب فرمائے جو زندگی کا بوجھ نہیں بلکہ زندگی کی خوب صورتی بن جائے؛ جس کی محبت میں سکون ہو، جس کی باتوں میں اپنائیت ہو اور جس کی رفاقت میں انسان واقعی جینا سیکھ جائے۔ آمین۔ ❤️
عورت کو کمزور سمجھنے کی غلطیتحریر: نور افشاں جونپوریمعاشرے میں عورت کے بارے میں سب سے عام غلط فہمی شاید یہی ہے کہ وہ کمزور ہے۔ اس کی کمزوری کا اندازہ اس کی آواز، لباس، جسمانی ساخت یا اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ وہ کتنی دیر تک دوسروں کے سہارے کے بغیر کھڑی رہ سکتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ عورت کی اصل طاقت اس کے بازوؤں میں نہیں، اس کے حوصلے میں ہوتی ہے۔ وہ بہت کچھ سہہ کر بھی اپنے گھر کو سنبھالتی ہے، اپنی اولاد کی تربیت کرتی ہے اور کئی بار اپنی خواہشات کو دوسروں کی ضرورتوں کے پیچھے رکھ دیتی ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس عورت کی برداشت کو کبھی خوبی کہا جاتا ہے، اسی برداشت کو بعض لوگ اس کی کمزوری سمجھ لیتے ہیں۔ اسے خاموش دیکھ کر سمجھا جاتا ہے کہ وہ جواب نہیں دے سکتی، اسے صبر کرتے دیکھ کر خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ظلم سہتی رہے گی، اور اسے اپنے رشتوں کی خاطر جھکتے دیکھ کر یہ فیصلہ کر لیا جاتا ہے کہ اس کی اپنی کوئی رائے نہیں۔ حالاں کہ ہر خاموش رہنے والا کمزور نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی انسان اس لیے خاموش رہتا ہے کہ اسے معلوم ہوتا ہے کہ ہر بات کا جواب الفاظ سے دینا ضروری نہیں۔ عورت بھی بہت کچھ جانتی، سمجھتی اور محسوس کرتی ہے لیکن وہ ہر حقیقت کو شور بنا کر پیش نہیں کرتی۔ وہ اپنے گھر کی عزت، والدین کی پریشانی، بچوں کے مستقبل اور رشتوں کی نزاکت کو سامنے رکھ کر کئی فیصلے کرتی ہے۔ لیکن اس کا یہ رویہ دوسروں کو اسے دبانے کا حق نہیں دیتا۔ ایک عورت کی زندگی کو قریب سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے حصے میں صرف ذمہ داریاں نہیں آتیں بلکہ توقعات بھی آتی ہیں۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ وہ بیٹی ہو تو فرمانبردار رہے، بہن ہو تو سمجھوتا کرے، بیوی ہو تو ہر حال میں نبھائے اور ماں ہو تو اپنی ہر خواہش قربان کر دے۔ مگر بہت کم لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ ان تمام کرداروں کے درمیان وہ خود کہاں ہے؟ یہ سوال صرف عورت کا نہیں، پورے معاشرے کا سوال ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایسی عظیم خواتین گزری ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ عورت کمزور نہیں۔ حضرت خدیجہؓ نے رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیا، حضرت سمیہؓ نے ایمان کی خاطر جان قربان کر دی، حضرت عائشہؓ نے علم کا بلند مقام حاصل کیا، حضرت فاطمہؓ نے صبر و پاکیزگی کی مثال قائم کی، حضرت اسماءؓ نے مشکل وقت میں حوصلے کا مظاہرہ کیا اور حضرت نسیبہؓ نے اُحد کے میدان میں رسول اللہ ﷺ کا دفاع کیا۔ قرآنِ کریم میں حضرت مریمؑ کا ذکر بھی ایمان، پاکیزگی اور اللہ پر بھروسے کی عظیم مثال کے طور پر ملتا ہے۔ عورت کو عزت دینے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے صرف تعریف کے چند جملے کہہ دیے جائیں۔ عزت کا اصل مطلب یہ ہے کہ اس کی رائے سنی جائے، اس کے فیصلے کو اہمیت دی جائے، اس کے ساتھ ناانصافی نہ کی جائے اور اسے انسان سمجھا جائے۔ عورت کو تحفظ کی ضرورت ضرور ہے مگر تحفظ کے نام پر اس کی آزادی، تعلیم اور صلاحیتوں کو محدود کرنا انصاف نہیں۔ آج بہت سی عورتیں تعلیم حاصل کر رہی ہیں، ملازمت کر رہی ہیں، کاروبار چلا رہی ہیں اور اپنے خاندان کا سہارا بن رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بعض ذہن اب بھی عورت کی کامیابی کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اگر وہ آگے بڑھے تو سوال اٹھتے ہیں، وہ گھر سنبھالے تو اسے معمولی سمجھا جاتا ہے وہ اپنی بات کہے تو اسے بدتمیز کہا جاتا ہے اور اگر وہ خاموش رہے تو لوگ اس کی خاموشی کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ یہ رویہ بدلنا ہوگا۔ ہمیں اپنی بیٹیوں کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ وہ اچھے رشتے نبھائیں؛ انہیں یہ بھی سکھانا چاہیے کہ وہ اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ انہیں تعلیم کے ساتھ فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اچھے اور برے میں فرق کرنے کی سمجھ اور مشکل حالات میں خود کو سنبھالنے کا حوصلہ بھی دینا چاہیے۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ عورت کسی کی ملکیت نہیں، ایک مکمل انسان ہے۔ ماں ہو تو احترام کی مستحق ہے، بہن ہو تو حفاظت اور اعتماد کی، بیوی ہو تو رفاقت اور عزت کی، اور بیٹی ہو تو محبت اور اچھی تربیت کی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عورت کو ترس کی نظر سے نہیں، احترام کی نظر سے دیکھیں۔ اسے کمزور کہہ کر اس کے حوصلے کو کم نہ کریں اور نہ ہی اس کی برداشت کو اپنے ظلم کا جواز بنائیں۔ کسی بھی معاشرے کی تہذیب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں عورت کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ ’’کیونکہ جس عورت کے وجود سے نسلیں سنورتی ہیں، اسے معمولی سمجھنا دراصل اپنی ہی بنیاد کو کمزور سمجھنا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب عورت اپنے حق، ایمان اور کردار کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے تو وہ صرف اپنی زندگی نہیں، آنے والی نسلوں کی سمت بھی بدل دیتی ہے۔‘‘
مقدور ہو تو خاک سے پوچھوں کہ اے لئیمتو نے وہ گنج ہائے گراں مایہ کیا کیے✍️ نور افشاں جونپوری
☆♡مدینۂ منورہ♡☆ مکتوب نگار: نور افشاں جونپوریبسم اللہ الرحمٰن الرحیماللّٰہم صلِّ علیٰ سیدنا محمدٍ وآلہ وسلم *مکتوب بنام مدینۂ منورہ* ہزار بار بشویم دہن ز مُشک و گلابہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبی استالسلام علیک یا مدینۃ الرسول ﷺاے مدینۂ منورہ! اے شہرِ رسولِ کریم ﷺ! آج دور بیٹھی ایک گناہگار بندی، دل میں بے شمار حسرتیں اور آنکھوں میں اشک لیے تجھے خط لکھ رہی ہے۔ قلم میرے ہاتھ میں ضرور ہے، مگر میرے جذبات لفظوں میں سمٹنے کا نام نہیں لیتے۔ تیرا نام آتے ہی دل کی دھڑکن بدل جاتی ہے، آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور روح پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ آخر یہ کیسا شہر ہے کہ جسے دیکھے بغیر بھی لوگ اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کو تیار رہتے ہیں؟ اے مدینہ! تو وہ مقدس سرزمین ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوبِ مکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہجرت، قیام اور آرام گاہ بننے کا شرف عطا فرمایا۔ تیرے کوچوں میں رحمت کے قدموں کی خوشبو بسی ہوئی ہے، تیرے ذرے ذرے میں محبتِ رسول ﷺ کی مہک رچی ہوئی ہے۔ یہی وہ شہر ہے جہاں حضرت عمر فاروقؓ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ انہیں اپنے محبوب ﷺ کے شہر میں شہادت نصیب ہو، اور ربِ کریم نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ تیرے ہر گوشے سے تاریخِ اسلام کی عظمت جھلکتی ہے اور ہر سمت صحابۂ کرامؓ کی محبت، قربانی اور وفاداری کی داستانیں سنائی دیتی ہیں۔ اسی کیفیت کو ایک شاعر نے یوں بیان کیا ہے:زائرِ کوئے جاناں آہستہ چلدیکھ آیا ہے جہاں آہستہ چلجیسے جی چاہے زمیں پر گھوم پھریہ مدینہ ہے، یہاں آہستہ چلاے مدینہ! جب بھی تیرا تصور میرے دل میں اترتا ہے، آنکھوں کے سامنے مسجدِ نبوی ﷺ کا نورانی منظر ابھر آتا ہے۔ وہی مسجد جہاں میرے آقا ﷺ نے انسانیت کو محبت، عدل، رحمت اور اخوت کا درس دیا، جہاں صحابۂ کرامؓ نہایت ادب سے بیٹھ کر وحیِ الٰہی سنا کرتے تھے۔ کاش! وقت کی دیواریں گر جاتیں اور میں بھی ان سعادت مند لوگوں میں شامل ہوجاتی جو براہِ راست اپنے محبوب ﷺ کی مجلس میں بیٹھنے کا شرف حاصل کرتے تھے۔ اے مدینہ! تیری پاکیزہ فضاؤں میں آج بھی عشقِ رسول ﷺ کی خوشبو محسوس ہوتی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جہاں حضرت حسان بن ثابتؓ نے بارگاہِ رسالت میں نعتیہ اشعار پیش کیے اور اپنے قلم کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ کا ترجمان بنایا۔ جب یہ سب سوچتی ہوں تو دل بے اختیار تیرے کوچوں میں پہنچ جاتا ہے، نگاہیں گنبدِ خضراء کے تصور میں کھو جاتی ہیں اور زبان بے ساختہ درود و سلام پڑھنے لگتی ہے۔ اے مدینہ! تیری جنت البقیع کتنی خوش نصیب ہے۔ اس کی آغوش میں بے شمار صحابۂ کرامؓ، صحابیاتؓ، تابعین اور صالحین آسودۂ خاک ہیں۔ اس خاموش مٹی کا ہر ذرہ اسلام کی قربانیوں، وفاداریوں اور ایثار کی گواہی دیتا ہے۔ اور پھر... گنبدِ خضراء! وہ سبز گنبد جس کا ایک تصور ہی دل کو سکون، روح کو تازگی اور آنکھوں کو نمی عطا کردیتا ہے۔ کتنے خوش نصیب ہوں گے وہ لوگ جن کی نگاہ پہلی مرتبہ اس مبارک منظر پر پڑتی ہوگی۔ اے مدینہ! علم و ادب کے امام، حضرت امام مالکؒ بھی تیرے احترام میں غیر معمولی احتیاط اختیار فرماتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ یہ وہ سرزمین ہے جسے محبوبِ خدا ﷺ سے نسبت حاصل ہے، اس لیے یہاں ہر قدم ادب کا تقاضا کرتا ہے۔ ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرش نازک تر نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا یہ عاجز بندیِ خدا، نور افشاں جونپوری، اپنے گناہوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں کے ساتھ تیرے حضور اپنی آرزو پیش کرتی ہے۔ دل میں صرف ایک ہی خواہش ہے کہ وہ مبارک دن جلد آئے جب میری نگاہ پہلی بار گنبدِ خضراء پر پڑے اور میری زبان بے اختیار درود و سلام سے تر ہوجائے۔ اے صبا! مصطفیٰ ﷺ سے کہہ دینا غم کے مارے سلام کہتے ہیں۔ اور بے اختیار دل سے یہ صدا نکلتی ہے: مدینے جانے والو! جاؤ جاؤ، فی امان اللہ کبھی تو اپنا بھی لگ جائے گا بستر مدینے میں۔ اے مدینہ! تیری یاد صرف زیارت کی آرزو ہی نہیں جگاتی بلکہ امتِ مسلمہ کا درد بھی تازہ کر دیتی ہے۔ آج فلسطین کے مظلوم مسلمان ظلم و ستم کا سامنا کر رہے ہیں، مسجدِ اقصیٰ آزادی کی منتظر ہے اور امتِ مسلمہ مختلف آزمائشوں سے گزر رہی ہے۔ ایسے میں دل بار بار تیری طرف متوجہ ہوتا ہے، کیونکہ تو رحمت، امید، وحدت اور محبت کا شہر ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جب تک مسلمانوں کے دلوں میں اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت زندہ رہے گی، مایوسی کبھی ان پر غالب نہیں آسکے گی۔ اے مدینہ!جس دن اللہ تعالیٰ مجھے تیری حاضری نصیب فرمائے گا، شاید میری زبان پر یہی الفاظ ہوں گے: رحمت برس رہی ہے محمد ﷺ کے شہر میں ہر شے میں تازگی ہے محمد ﷺ کے شہر میں پھر ادب سے روضۂ رسول ﷺ کے سامنے کھڑی ہوکر عرض کروں گی: مصطفیٰ جانِ رحمت پہ لاکھوں سلام شمعِ بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام سلام اس نبیِ رحمت ﷺ پر جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا، سلام اس ہستی ﷺ پر جن کے ذریعے انسانیت کو ہدایت ملی، اور سلام اس آقا ﷺ پر جن کی محبت ایمان کی روح ہے۔یہی وہ مقام
ہے جہاں روضۂ رسولِ کریم ﷺ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ریاض الجنۃ ہے، وہ مبارک جگہ جس کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ وہ جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ ہے۔یہ تصور ہی دل کو لرزا دیتا ہے کہ کتنے خوش نصیب ہوتے ہوں گے وہ لوگ جو وہاں حاضر ہوکر ادب سے درود و سلام پیش کرتے ہیں۔ آخر میں، میں ربِ کریم کی بارگاہ میں دستِ دعا بلند کرتی ہوں کہ مجھے، میرے والدین، میرے اہلِ خانہ اور تمام عاشقانِ رسول ﷺ کو بار بار مدینۂ منورہ کی حاضری نصیب فرمائے، روضۂ اقدس ﷺ کی باادب زیارت عطا فرمائے، ہمارے دلوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے آباد رکھے، امتِ مسلمہ پر رحم فرمائے، فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی نصرت فرمائے اور ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت، کامل اطاعت اور سنتِ مبارکہ پر استقامت عطا فرمائے۔آمین یا رب العالمین۔
#urdupost #اردو_پوسٹhttps://t.me/islamicpi
صالح اجتماع کی خصوصیت.جو اجتماع محتاجوں کی خبرگیری نہیں کرتا وہ توڑ دینے کے قابل ہے. اصل میں اس کا نام.... اجتماع. ..رکھنا ہی ظلم ہے. اجتماع فقط افراد کی خبرگیری کے لیے پیدا ہوتا ہے. اگر وہ افراد کی خبرگیری نہیں کرتا تو وہ برباد کر دیئے جانے کے لائق ہے. امام شاہ ولی اللہ رحمتہ اللہ علیہ.
◇♡اس سے پہلے کہ وقت گزر جائے♡◇نور افشاں جونپوریکچھ باتیںلفظوں کی محتاج نہیں ہوتیں۔وہ دل کی دہلیز پربرسوں بیٹھی رہتی ہیں۔صرفایک مناسب لمحے کی منتظر۔مگر ہر لمحہاپنی مدت لے کر آتا ہے۔اور اپنی مدت پوری ہوتے ہیآہستگی سےرخصت ہو جاتا ہے۔پھر ہم ہاتھ بڑھاتے ہیں۔مگر ہاتھ میںصرف خالی ہوا رہ جاتی ہے۔زندگی ہمیشہبڑے حادثوں سے نہیں بدلتی۔کبھیایک ادھورا جملہ،ایک ان کہی باتایک مؤخر ملاقاتانسان کی پوری عمر کا بوجھ بن جاتی ہے۔میں نے دیکھا ہےکہ بعض لوگبچھڑنے کے بعد نہیں روتے۔وہ اس دن روتے ہیںجب انہیں احساس ہوتا ہےکہ جو کہنا تھاوہ کہہ نہیں سکے۔جو سننا تھاوہ سن نہ سکے۔اور جس کے ساتھچند قدم چل سکتے تھے،اسےوقت کی گرد میںاکیلا چھوڑ آئے۔محبت شایدکسی کو پا لینے کا نام بھی نہیں۔محبت توکسی کی موجودگی کیقدر پہچان لینے کا ہنر ہے۔اس سے پہلےکہ خاموشیلفظوں پر غالب آ جائے،اپنوں کواپنی محبت کا یقین دے دو۔اس سے پہلےکہ فاصلےرشتوں کی زبان بدل دیں،ایک باردل سےکسی کا نام لے لو۔اس سے پہلےکہ پلکوں پر ٹھہرا ہوا موسمبکھر جائے،کسی کی آنکھوں میںاپنی دعا رکھ دو۔کیونکہ وقتکسی کے لیےواپس نہیں مڑتا۔وہ صرفیادوں کے نشان چھوڑتا ہے۔اور یادیںکبھی کسی کو واپس نہیں لاتیں۔وہ صرف یہ بتاتی ہیںکہ زندگی میںکون سا لمحہکتنا قیمتی تھا۔میں نے اب انتظار سےشکایت کرنا چھوڑ دیا ہے۔کیونکہ ہر رخصتیکسی بےوفائی کا نام نہیں ہوتی۔ بعض جدائیاںتقدیر کے قلم سے لکھی جاتی ہیں۔ اور تقدیر سےبحث نہیں کی جاتی،صرف اس کے معنیوقت کے ساتھسمجھ میں آتے ہیں۔اس لیے اگر آج کوئی اپناتمہارے سامنے بیٹھا ہے،تو بات کر لو۔ اگر کسی سےمعافی مانگنی ہے،تو مانگ لو۔اگر کسی کے لیے دل میںمحبت باقی ہے، تو اسےخاموشی کے حوالے مت کرو۔کیونکہ زندگی ہمیشہدوسرا موقع نہیں دیتی۔اور بعض ملاقاتیںبس ایک ہی بارلکھی جاتی ہیں۔
روزہ ہے، لیکن اس اختیار کے استعمال کا حساب آخرت میں ضرور دینا ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ" یعنی تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ اس لیے ہر صاحبِ اختیار کو اپنی حقیقت پر غور کرنا چاہیے اور اپنے دل سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ آخر اسے یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کو بے حیثیت اور حقیر سمجھے؟ ہم کو دوسروں پر برتری کا احساس نہیں بلکہ اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے۔ اسی حقیقت کو حضرت مالک بن دینارؒ نے ایک واقعے کے ذریعے نہایت مؤثر انداز میں سمجھایا ہے۔ سلیمان بن عبدالملک کے زمانے میں عراق کا گورنر یزید بن مہلب بن ابی صفرہ تھا۔ ایک مرتبہ وہ بازار سے گزر رہا تھا اور غرور و تکبر کے ساتھ چل رہا تھا۔ حضرت مالک بن دینارؒ نے اسے دیکھا تو فرمایا: بیٹا! یہ اکڑ کر چلنا اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ اس نے کہا: "بڑے میاں! شاید آپ نے مجھے پہچانا نہیں۔ آپ نہیں جانتے کہ میں کون ہوں؟" حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا: "میں تمہیں تمہاری سمجھ سے زیادہ جانتا ہوں۔" اس نے حیرت سے پوچھا: وہ کیسے؟حضرت مالک بن دینارؒ نے فرمایا: تمہاری ابتدا ایک ناپاک نطفے سے ہوئی، تمہاری انتہا ایک بدبو دار لاش ہوگی اور ان دونوں کے درمیان تم اپنے اندر پیشاب اور پاخانے کا بوجھ اٹھائے پھرتے ہو۔ یہ الفاظ سن کر اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے کہا: شیخ! آپ نے مجھے صحیح پہچانا لوگوں نے مجھے نہیں پہچانا۔ یہ واقعہ جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔ واقعی انسان اگر اپنی حقیقت کو پہچان لے تو پھر اسے اپنی ذات پر غرور کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ جس وجود کی ابتدا اتنی معمولی ہو، سفر مختصر ہو اور منزل موت اسے اپنے علم، دولت، منصب یا طاقت پر کس بات کا غرور؟ ہم کو چاہیے کہ اپنی ظاہری ترقی کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی بھی اصلاح کرے۔ اگر ہم نے چاند تک پہنچنے کی کوشش کی ہے تو ہمیں اپنے نفس کی گہرائیوں تک پہنچنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم نے دنیا کے راز دریافت کر لیے ہیں تو ہمیں اپنی حقیقت بھی دریافت کرنی چاہیے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عزت مال و منصب میں نہیں البتہ عاجزی، حسنِ اخلاق، عدل، رحم اور تقویٰ میں ہے۔ جو شخص اللہ کی مخلوق کو حقیر سمجھتا ہے وہ دراصل اپنی حقیقت بھول جاتا ہے۔ اور جو اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے اس کے دل میں تکبر کے بجائے عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی حقیقت پہچاننے، اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے اور کبر و غرور، انانیت اور خود پسندی جیسی مہلک بیماریوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں ایسا انسان بنائے جو ترقی کے ساتھ انسانیت کو بھی زندہ رکھے۔آمین یا رب العالمین۔
Telegram Channel Link information
Country 🇦🇪 United_Arab_Emirates
Language Arabic
Type Telegram Channel Link
Subscribers 468
Rate this group

How would you rate this community?

0.0 ★ Join Group →